عائشہ عمر کے سوتیلے بہن بھائی منظر عام پر آگئے ، اداکارہ نے تصدیق کر دی

پاکستان کی نامور اداکارہ و ماڈل عائشہ عمر نے پہلی مرتبہ سوشل میڈیا پر اپنے سوتیلے بہن بھائیوں کی موجودگی کا انکشاف کردیا۔ خیال رہے کہ اداکارہ و ماڈل حال

ہی میں دورہ امریکا سے واپس وطن پہنچی ہیں جہاں ان کے سگے بھائی کے علاوہ سوتیلے بہن بھائی بھی قیام پذیر ہیں۔چند روز قبل عائشہ نے اپنے والد کی برسی کے موقع پر اپنے بہن بھائیوں کی ساتھ تصاویر شیئر کیں اور ساتھ میں اپنی زندگی کے اس راز سے پردہ بھی اٹھایا۔ اداسی کے عالم میں لکھی گئی اس تحریر میں عائشہ نے بتایا کہ ان کے والد اس وقت انتقال کرگئے تھے جب وہ 2 برس کی بھی نہیں ہوئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ نے انھیں اور ان کے بھائی کو اکیلے ہی پالا اور انھیں اس مقام پر پہنچایا جہاں وہ آج موجود ہیں۔ عائشہ نے کہا کہ میری والدہ نے نامساعد حالات کا مقابلہ کیا اور زندگی میں دشواریوں سے گزریں، جو کبھی بھی آسان نہ تھا اور آج ہمیں اپنے اہلِ خانہ پر بھروسہ ہے۔ اپنے سوتیلے بہن بھائیوں کی موجودگی سے متعلق اداکارہ نے تحریر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ والد کئی سال پہلے کراچی میں انتقال کرگئے تھے، لیکن انھوں نے بچوں میں 4 بچے سوگوار چھوڑے تھے۔ عائشہ کا لکھنا تھا کہ والد نے ان کی والدہ سے شادی کرنے سے قبل برطانوی خاتون سے شادی کی تھی، جن سے ان کے دو بچے ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہے۔ عائشہ نے مزید بتایا کہ اس کے بعد ان کے والد نے ان کی والدہ سے شادی کی تھی جن سے وہ اور ان کے بڑے بھائی ہیں۔ اداکارہ نے اپنے والد کی برسی کے دن سے متعلق یوں کہا کہ یہ دن میرے لیے بہت عجیب ہے، کیونکہ میں اس کے بارے میں جانتی ہی نہیں ہوں، میں صرف اپنے والد کے بارے میں خوبصورت باتیں سنتے ہوئے بڑی ہوئی ہوں کہ میرے وہ ایک بااخلاق، نرم و شاعرانہ مزاج کے حامل شخص تھے، لیکن اس کے باوجود وہ توانا انسان بھی تھے۔ انھوں نے لکھا کہ وہ جیسے جیسے بڑی ہوتی جارہی ہیں اور اپنے والد کے بارے میں جانتی جارہی ہیں اور کبھی کبھار اپنے والد کی موجودگی کو اپنے آس پاس نہیں بلکہ اپنے اندر، اپنے احساسات، جذبات، انتخاب، اچھے برے لمحات میں محسوس کرتی ہیں اور یہ احساس اب آہستہ آہستہ مزید بڑھتا جارہا ہے۔ انھوں نے مداحوں سے اپیل کی کہ وہ ان کے والد کی درجات بلندی کے لیے دعا کریں اور یہ بھی دعا کریں کہ اللہ میرے حفاظت کرے اور ہدایت عطا فرمائے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.